بروزِ قیامت ہو ایسی عنایت، رہوں پل پہ ثابت قدم یا الہی
جلا دے نہ نارِ جہنم کرم ہو، پئے بادشاہِ اُمم یا الہی
گناہوں کی عادت بڑھی جا رہی ہے، کرم یا الہی کرم یا الہی
گناہوں کی تاریکیاں چھا گئی ہیں، کرم یا الہی کرم یا الہی
چلے قبر میں سب اکیلا لٹا کر، کرم یا الہی کرم یا الہی
نکیرین بھی قبر میں آچکے ہیں، کرم یا الہی کرم یا الہی
قیامت کی گرمی میں کیسے سہوں گا، کرم یا الہی کرم یا الہی
یہود و نصاریٰ کو مغلوب کر دے، ہو ختم اُن کا جور و ستم یا الہی
مجھے دونوں عالم کی خوشیاں عطا ہوں، مٹا دے زمانے کے غم یا الہی
جو بیمار آئے شفا پا کے جائے، سکھا دے مجھے ایسا دم یا الہی
میں تحریر سے دیں کا ڈنکا بجادوں، عطا کر دے ایسا قلم یا الہی
تُو عطارؔ کو بے سبب بخش مولیٰ
کرم کر کرم کر کرم یا الہی