رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
صحراۓ طیبہ ہے دلِ بلبل کو تُو پسند
اپنا عزیز وہ ہے جسے تُو عزیز ہے
ہم کو ہے وہ پسند جسے آئے تُو پسند
مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاس
اے جانِ کر لے ٹوٹے ہوئے دل کو تُو پسند
ہیں خانہ زاد بندۂ احساں تو کیا عجب
تیری وہ خُو ہے کرتے ہیں جس کو عدو پسند
کیوں نہ چاہیں تیری گلی میں ہوں مٹ کے خاک
دنیا میں آج کس کو نہیں آبرو پسند
ہے خاکسار پر کرمِ خاص کی نظر
عاجز نواز ہے تیری اے خوبرو پسند
ہوئے ئیمن قدم سے فرش و عرش و لامکاں زندہ
خلاصہ یہ کہ سرکار آئے ہیں جانِ جہاں ہو کر
ترے دستِ عطا نے دولتیں دیں دل کئے ٹھنڈے
کہیں گوہر فشاں ہو کر کہیں آبِ رواں ہو کر
فدا ہو جائے امت اس حمایت اس محبت پر
ہزاروں غم لئے ہیں ایک دل پر شادماں ہو کر
جو رکھتے ہیں سلاطیں شاہیِ جاوید کی خواہش
نشاں قائم کریں ان کی گلی میں بے نشاں ہو کر
وہ جس رہ سے گزرتے ہیں بسی رہتی ہے مدت تک
نصیب اس گھر کے جس گھر میں وہ ٹھہریں مہماں ہو کر
حسنؔ کیوں پاؤں توڑے بیٹھے ہو طیبہ کا رستہ لو
زمیں ہند سرگرداں رکھے گی آسماں ہو کر