روتے ہیں جو دیوانے بے تاب ہیں مستانے
ان سب کو دکھا دیجے دربار مدینے کا
روتا ہے جو اُمت کی محبت میں
وہ شافعِ محشر ہے سردار مدینے کا
راتوں کو جو روتا ہے اور خاک پہ سوتا ہے
غم خوار ہے، سادہ ہے مختار مدینے کا
قبضے میں دو عالم ہیں پر ہاتھ کا تکیہ ہے
سوتا ہے چٹائی پر سردار مدینے کا
دکھ درد جہاں کے سب دُور شہا کرکے
مجھ کو تو بنا لیجے بیمار مدینے کا
اس در کے بھکاری کی جھولی میں دو عالم ہیں
شاہوں سے بھی بڑھ کر ہے نادار مدینے کا
مقبول جہاں بھر میں ہو دعوتِ اسلامی
صدقہ تجھے اے ربِ غفار! مدینے کا
تقدیر چمک اٹھے قسمت ہی تو کھل جائے
بن جائے جو ادنیٰ سگ، عطار مدینے کا