صد شکر خدایا تُو نے دیا، ہے رحمت والا وہ آقا
جو اُمّت کے رنج و غم میں، راتوں کو اشک بہاتا رہے
جب گرمیِ حشر ہو زوروں پر، اُس وقت تمنا ہے سرور!
ہم پیاس کے ماروں کو کوثر، کے جام پہ جام پلاتا رہے
ہے میری تمنا پئے جہاں، ہر خُرد و کلاں لہر ایک جواں
ہر ”دعوتِ اسلامی“ والا، سنت کا علم لہراتا رہے
ہے تجھ سے دعا ربِ اکبر! مقبول ہو ”فیضانِ سنت“
مسجد مسجد گھر گھر پڑھ کر، اسلامی بھائی سناتا رہے
جب میرا یاور ہے سرور، پھر ڈرِ محشر کا ہو کیوں نکر!
وہ حشر میں رُسوا کیسے کرے، جو عیب یہاں پہ چھپاتا رہے
جب تن سے جدا ہو جاں مُضطر، اُس وقت ہو جلوہ پیشِ نظر
ہو قبر میں بھی سایہ گُستَر، تُو میٹھی نیند سلاتا رہے
یا رب! یہ دعا عطار کی ہے، جس وقت تلک دنیا میں جئے
محبوب کی سنت عام کرے، یہ ڈنکا دِیں کا بجاتا رہے