دنیا مزار حشر جہاں ہیں غفور ہیں
ہر منزل اپنے چاند کی منزل غفر کی ہے
اُن پر درود جن کو حجر تک کریں سلام
اُن پر سلام جن کو تحیت شجر کی ہے
اُن پر درود جن کو گسِ بے کساں کہیں
اُن پر سلام جن کو خبر بے خبر کی ہے
جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السّلام
یہ بارگاہ مالکِ جن و بشر کی ہے
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں السّلام
خوبی انہیں کی جوت سے شمس و قمر کی ہے
سب بحر و بر سلام کو حاضر ہیں السّلام
تملیک انہیں کے نام تو ہر بحر و بر کی ہے
سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں السّلام
کلمے سے تر زبانِ درخت و حجر کی ہے
عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں السّلام
ملجا یہ بارگاہِ دُعا و اثر کی ہے
شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں السّلام
راحت انہیں کے قدموں میں شوریدہ سر کی ہے
خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں السّلام
مرہم یہیں کی خاک تو خستہ جگر کی ہے
سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں السّلام
یہ جلوہ گاہِ مالکِ ہر خشک و تر کی ہے
سب گُر و فر سلام کو حاضر ہیں السّلام
ٹوپی یہیں تو خاک پہ ہر گُر و فر کی ہے
اہلِ نظر سلام کو حاضر ہیں السّلام
یہ گرد ہی تو سُرمہ سب اہلِ نظر کی ہے
آنسو بہا کہ بہ گئے کالے گنہ کے ڈھیر
ہاتھوں ڈوباؤ جھیل یہاں چشمِ تر کی ہے
تیری قضا خلیفۂ احکام ذی الجلال
تیری رضا حلیف قضا و قدر کی ہے
یہ پیاری پیاری کیاری ترے خانہ باغ کی
سرد اس کی آب و تاب سے آتش سقر کی ہے
جنت میں آ کے نار میں جاتا نہیں کوئی
شکر خدا نوید نجات و ظفر کی ہے