(اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۲ رَمَضَانُ الْمُبَارَک ۱۴۱۴ھ کو مدینہ منورہ زادہا اللّٰہ شرفاً و تعظیماً کی مہکی مہکی فضاؤں میں پہلے ہی دن یہ معروضہ پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا)
سرکار پھر مدینے میں عطّار آ گیا
پھر آپ کا گدا شہِ ابرار آ گیا
تم بخشوا دو ہر خطا صدقہ حُسین کا
اُمیدِ مغفرت پہ گنہگار آ گیا
راضی ہمیشہ کیلئے ہو جائیے شہا!
یہ دائمی رضا کا طلب گار آ گیا
ہوتی ہیں رات دن یہاں رحمت کی بارشیں
بخشا گیا جو طیبہ میں بدکار آ گیا
دولت کی تاج و تخت کی آقا نہیں طلب
تم سے فقط تمہارا طلبگار آ گیا
اس کی بلائیں ٹل گئیں غم دور ہو گئے
جو کوئی در پہ بے کس و ناچار آ گیا
آقا غمِ مدینہ میں بے حال کیجئے
ہر کوئی دیکھ کر کہے بیمار آ گیا
دلِ بیقرار دو مجھے آنکھ اشکبار دو
یہ بھیک لینے درِ پہ سرکار آ گیا
سوزِ جگر عطا کرو سینہ فگار دو
یہ بھیک لینے درِ پہ سرکار آ گیا
اے کاش! یاد میں تری رونا نصیب ہو
یہ بھیک لینے درِ پہ سرکار آ گیا
مرضِ گناہ سے مجھے دیجئے شفا
یہ بھیک لینے درِ پہ سرکار آ گیا
مجھ کو بقیعِ پاک میں دو گز زمین دو
یہ بھیک لینے درِ پہ سرکار آ گیا
ہے زائرِ مدینہ شفاعت کا مستحق
یہ بھیک لینے درِ پہ سرکار آ گیا
عاصی پہ کیجئے کرم اے شافِعِ اُمم
عطّار مغفرت کا طلب گار آ گیا