شدائدِ نَزع کے کیسے سہوں گا یارسول اللہ
اندھیری قبر میں کیسے رہوں گا یارسول اللہ
مجھے مرنا ہے آقا گنبدِ خضراء کے سائے میں
وطن میں مرگیا تو کیا کروں گا یارسول اللہ
نہ چھوٹے جُرم چھٹتے ہیں نہ مارے نفس مرتا ہے
نہ جانے نیک آخر کب بنوں گا یارسول اللہ
سدا میٹھی نظر رکھنا اگر تم ہو گئے ناراض
نہ ہرگز میں کہیں کا بھی رہوں گا یارسول اللہ
اندھیرا کاٹ کھاتا ہے اکیلے خوف آتا ہے
تو تنہا قبر میں کیونکر رہوں گا یارسول اللہ
نکیرین امتحاں لینے کو جب آئیں گے تُربت میں
جوابات اُن کو آقا کیسے دوں گا یارسول اللہ
برائے نام دردِ سر سہا جاتا نہیں مجھ سے
عذابِ قبر کیسے سہوں گا یارسول اللہ
یہاں چیونٹی بھی تڑپا دے مجھے تو قبر کے اندر
میں کیونکر ڈنک بیچوں گا یا رسول اللہ
یہاں معمولی گرمی بھی سہی جاتی نہیں مجھ سے
تو گرمی حشر کی کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
زمیں تپتی ہوئی خورشید بھی شعلہ فشاں ہوگا
برہنہ پا کھڑا کیسے رہوں گا یا رسول اللہ
سرِ محشر بلا کی دھوپ ہے آقا کرم کر دو
میں کیا محروم کوثر سے رہوں گا یا رسول اللہ
گناہوں کے گھلے دفتر کھڑا ہوں آہ! میزاں پر
نہیں ہیں نیکیاں اب کیا کروں گا یا رسول اللہ
ہے سر پر بارِ عصیاں پلِ صراط اب پار ہو کیسے!
سنبھالو ورنہ دوزخ میں گروں گا یا رسول اللہ
بروزِ حشر گر چشمِ کرم مجھ پر نہ کی تم نے
میں جا کر کس کے دامن میں چھپوں گا یا رسول اللہ
میں مجرم ہوں جہنم میں اگر پھینکا گیا مجھ کو
ہلاکت ہوگی ہائے! کیا کروں گا یا رسول اللہ
لپک کر آگ کے شعلے لپٹتے ہوں گے بربادی
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
اندھیری آگ ہوگی روشنی بالکل نہیں ہوگی
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
وہاں کانوں میں، آنکھوں میں، دہن میں، پیٹ میں بھی آگ!
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
جبالِ نار ہوں گے وادیاں بھی نار کی ہوں گی
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
فرشتے ڈانٹتے ہوں گے ہتھوڑے مارتے ہوں گے
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
وہاں سانپ اور بچھو بھی مسلسل ڈس رہے ہوں گے
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
غذا دوزخ کی تھوہر اور اوپر گھولتا پانی
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
نہ مانگے موت آئے گی نہ بیہوشی ہی چھائے گی
کرم کر دو یہ سب کیسے سہوں گا یا رسول اللہ
جو تم چاہو گے تو ہونگی مری سب مشکلیں آساں
وگرنہ نار میں، میں جا پڑوں گا یا رسول اللہ
تمہارا ہوں غلام اور ہے غلامی پر مجھے تو ناز
کرم سے ساتھ جنت میں چلوں گا یا رسول اللہ
زبان پر ہوگا اُس دم یا رسول اللہ کا نعرہ
بروزِ حشر جس دم میں اٹھوں گا یا رسول اللہ
غمِ اُمت میں روتا دیکھ کر تم کو سرِ محشر
شہِ! قابو میں کیسے دل رکھوں گا یا رسول اللہ
سنو یا مت سنو میں تو پکارے جاؤں گا تم کو
جہاں میں جب تلک آقا! جیوں گا یا رسول اللہ
کرم فرما کہ ہو عطار بھی اس قول کا مصداق
تری خاطر جیوں گا اور مروں گا یا رسول اللہ