شہنشاہِ بغداد یا غوثِ اعظم سنو میری فریاد یا غوثِ اعظم
بلا لیجئے بغداد یا غوثِ اعظم سنائی ہے روئداد یا غوثِ اعظم
لگا کر مجھے اپنے قدموں سے مُرشد مرا دل کرو شاد یا غوثِ اعظم
ترے پاک جلووں سے یا پیر و مُرشد مرا دل ہو آباد یا غوثِ اعظم
پلا جام ایسا سوا تیرے آقا نہ کچھ بھی رہے یاد یا غوثِ اعظم
مرے قلب سے حُبِ دنیا کی مُرشد اکھڑ جائے بنیاد یا غوثِ اعظم
رہے مجھ پہ میٹھی نظر مُرشدی گر پڑے کچھ نہ افاد یا غوثِ اعظم
ترے ہوتے یا پیر! رنج و الم کی کروں کس سے فریاد یا غوثِ اعظم
ترے در کے منگتے سب اغواث و اقطاب اور ابدال و اوتاد یا غوثِ اعظم
مکرم شہا تیرے سارے کے سارے ہیں آبا و اجداد یا غوثِ اعظم
شہاً کاش! در کا بنا لیتی کُتا مجھے تیری اولاد یا غوثِ اعظم
رہیں شاد و آباد عالم میں میرے سبھی گھر کے افراد یا غوثِ اعظم
مجھے پیارے گیارہ بھی بارہ بھی پچیس کے لگتے ہیں اعداد یا غوثِ اعظم
عدو قتل کرنے کے در پے ہوا ہے مدد شاہِ بغداد یا غوثِ اعظم
عدو تو مخالف تھے پہلے ہی سے اب بڑھا زور حُسّاد یا غوثِ اعظم
گناہوں نے مجھ کو کہیں کا نہ چھوڑا نہ ہو جاؤں برباد یا غوثِ اعظم
مجھے نفسِ ظالم پہ کر دیجئے غالب ہو ناکام ہمزاد یا غوثِ اعظم
دمِ نزع دیدار کی بھیک دینا چلے جاں مری شاد یا غوثِ اعظم
گرفتارِ رنج و بلا یہ گدا ہے کرو آکر آزاد یا غوثِ اعظم
”یہ عطّار میرا ہے“ مُرشد خُدارا
سنا دو یہ ارشاد یا غوثِ اعظم