Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Soya Hua Naseeb Jaga Deejiye Huzoor

Soya Hua Naseeb Jaga Deejiye Huzoor

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
سویا ہوا نصیب جگا دیجئے حُضُور میٹھا مدینہ مجھ کو دکھا دیجئے حُضُور اب "چل مدینہ" کا مجھے مُردہ سنائیے روتے ہوئے کو اب تو ہنسا دیجئے حُضُور پھر سبز گنبد اور وہ مینار کی بہار غوث و رضا کا صدقہ دکھا دیجئے حُضُور مسکین ہوں، غریب ہوں پلے نہیں ہے کچھ خرچہ سفر کا دیجئے نا دیجئے حُضُور عرفات اور مُزدلفہ اور مِنیٰ چلوں حج کرلوں حق سے اِذن دلا دیجئے حُضُور خُلفائے راشدین کے صدقے میں یا نبی! خوابوں میں اپنا جلوہ دکھا دیجئے حُضُور سائل غمِ مدینہ کا ہوں شاہِ بحر و بر مجھ کو غمِ مدینہ شہا دیجئے حُضُور احمد رضا کا واسطہ الفت کا ساقیا مجھ کو چھلکتا جام پلا دیجئے حُضُور ہر وقت سوزِ عشق میں تڑپا کروں شہا آگ ایسی میرے دل میں لگا دیجئے حُضُور زہرا کے لاڈلوں کا وسیلہ میں لایا ہوں پُرسُودہ دل کو میرے کھلا دیجئے حُضُور صدقہ شہیدِ کربلا کا شاہِ اَنبِیا دیوانہ مدینہ بنا دیجئے حُضُور یا مصطفٰے میں الفتِ دنیا میں پھنس گیا اِس قید سے خُدارا چھڑا دیجئے حُضُور پُر خار وادیوں میں بھٹک میں رہ گیا بھولے ہوئے کو راہ دکھا دیجئے حُضُور توبہ نباہ میں نہیں پاتا ہوں یا نبی! اب استقامت آپ شہا دیجئے حُضُور ڈر لگ رہا ہے آہ! جہنم کی آگ سے بخشش کا مجھ کو مُردہ سنا دیجئے حُضُور "قفلِ مدینہ" دیجئے مرشد کا واسطہ خاموش رہنا مجھ کو سکھا دیجئے حُضُور عطار بدخصال کا عصیاں شعار کا دل مُردہ ہو چکا ہے جلا دیجئے حُضُور یا رسول اللہ ! تیرے چاہنے والوں کی خیر سب غلاموں کا بھلا ہو سب کریں طیبہ کی سیر کاشکے ہجرِ مدینہ مجھ کو رکھے بے قرار چین ہی آئے نہ مجھ کو یاد طیبہ کے بغیر یا نبی اب تو مدینے میں مجھے بلوائیے ہو میسر با ادب پھر آپ کی گلیوں کی سیر کاش! طیبہ میں شہادت کا عطا ہو جائے جام جلوہ محبوب میں انجام میرا ہو بخیر فالتو باتوں کی عادت دُور ہو جائے حُضور ! ہو زباں پر میری اکثر آپ ہی کا ذکرِ خیر عائد آقا فردِ عصیاں ہو گئی کر دے کرم کون ہے جو بخشوائے گا مجھے تیرے بغیر تیز ہے تلوار کی بھی دھار سے یہ پُلِ صراط تم سنبھالا دو کہیں پھسل میرا نہ پیر اُمّتِ محبوب کا یارب بنا دے خیر خواہ نفس کی خاطر کسی دل میں میرے ہو نہ بیر جام ایسا اپنی اُلفت کا پلا دے ساقیا نعت سُن کر حالتِ عطار ہو رو رو کے غیر