ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم
تو ہی کرم کر دے تجھے شاہِ مدینہ کی قسم
ہو جب کبھی تیرا گزر بادِ صبا سوئے حرم
پہنچا مری تسلیم اس جا ہیں جہاں خیرِ الامم
إِنْ نِلْتِ يَا رِيحَ الصَّبَا يَوْماً إِلَى أَرْضِ الْحَرَم
بَلِّغْ سَلَامِي رَوْضَةً فِيهَا النَّبِيُّ الْمُحْتَشَم
میں دوں تجھے ان کا پتہ گر نہ تو پہچانے صبا
حق نے انہی کے واسطے پیدا کیے ارض و سما
رخسارِ سورج کی طرح ہے چہرہ ان کا چاند سا
ہے ذاتِ عالم کی پنہ اور ہاتھ دریا جود کا
مَنْ وَجْهُهُ شَمْسُ الضُّحَى مَنْ خَدُّهُ بَدْرُ الدُّجَى
مَنْ ذَاتُهُ نُورُ الْهُدَى مَنْ كَفُّهُ بَحْرُ الْهِمَم
حق نے انہیں رحمت کہا اور شافعِ عصیاں کیا
رتبہ میں وہ سب سے سوا ہیں ختم اُن سے انبیا
سب اولین و آخرین تارے ہیں تم مہرِ مبیں
یہ جگمگائے رات بھر چمکے جو تم کوئی نہیں
أَكْبَادَنَا مَجْرُوحَةٌ مِنْ سَيْفِ هَجْرِ الْمُصْطَفَى
طُوبَى لِأَهْلِ بَلْدَةٍ فِيهَا النَّبِيُّ الْمُحْتَشَم
اے دو جہاں پر رحم حق تم ہو شفیعِ المجرمین
ہے آپ ہی کا آسرا جب بولیں نَفْسِی مرسلیں
اس بیکسی کے وقت میں جب کوئی بھی اپنا نہیں
ہم بیکسوں پر ہو نظر اے رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين
يَا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين اَنْتَ شَفِيعُ الْمُذْنِبِين
اَكْرِمْ لَنَا يَوْمَ الْحَزِين فَضْلًا وَّ جُودًا وَّ الْكَرَم
اس سالکِ بدکار کا گو حشر میں کوئی نہیں
لیکن اُسے کیا خوف ہو جب آپ ہیں اس کے معیں
مجرم ہوں میں غفار رب اور تم شفیعُ الْمُذْنِبِين
پھر کیوں کہوں بیکس ہوں یا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين
يَا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين اَدْرِكْ لِزَيْنِ الْعَابِدِين
مَحْبُوسُ اَيْدَى الظَّالِمِين فِی مَرْكَبٍ وَّ الْمُزْدَحَم