Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Tere dar se hai mangton ka guzara ya shah-e-Baghdad

ترے در سے ہے منگتوں کا گزارا یاشہِ بغداد

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
ترے در سے ہے منگتوں کا گزارا یاشہِ بغداد یہ سُن کر میں نے بھی دامن پسارا یاشہِ بغداد میری قسمت کا چمکا دو ستارہ یاشہِ بغداد دکھا دو اپنا چہرہ پیارا پیارا یاشہِ بغداد اجازت دو کہ میں بغداد حاضر ہو کے پھر کرلوں تمہارے نیلے گنبد کا نظارہ یاشہِ بغداد غمِ شاہِ مدینہ مجھ کو تم ایسا عطا کر دو جگر ٹکڑے ہو دل بھی پارہ پارہ یاشہِ بغداد مدینے کا بنا دو تم مجھے کچھ ایسا دیوانہ پھروں دیوانگی میں مارا مارا یاشہِ بغداد خدا کے خوف سے روئے نبی کے عشق میں روئے عطا کر دو وہ چشمِ تر خدارا یاشہِ بغداد گناہوں کے مرض نے کر دیا ہے نیم جاں مجھ کو تمہیں آ کے کرو اب کوئی چارہ یاشہِ بغداد مجھے اچھا بنا دو مرشدی بے شک یقیناً ہیں مرے حالات تم پر آشکارا یاشہِ بغداد سدھارو مرشدی للہ اپنے ڈھیٹ بندے کو نہ جانے تم نے کتنوں کو سدھارا یاشہِ بغداد ہوئی جاتی ہے اوجڑ اب مری اُمید کی کھیتی بھرن برسا دو رحمت کی خدارا یاشہِ بغداد کرم میراں ابر سے اُجڑے گلستاں میں بہار آئے خزاں کا رُخ پھرا دو اب خدارا یاشہِ بغداد شہ! خیرات لینے کو سلاطینِ زمانہ نے ترے دربار میں دامن پسارا یاشہِ بغداد گرجتے بادلوں کا شور چلتی آندھیوں کا زور لرزتا ہے کلیجا دو سہارا یاشہِ بغداد بچالو دشمنوں کے وار سے یا غوثِ جیلانی بڑی اُمید سے تم کو پکارا یاشہِ بغداد وسیلہ چار یاروں کا خدا سے بخشوا دیجے کرم فرمائیے مجھ پر خدارا یاشہِ بغداد اگرچہ لاکھ پاپی ہے مگر عطار کس کا ہے؟ تمہارا ہے تمہارا ہے تمہارا یاشہِ بغداد