ترے دیدار کا طالب لگے آس بیٹھا ہوں
خدارا اب دکھا دے روئے تاباں یا رسول اللہ
مرا سینہ مدینہ ہو مدینہ میرا سینہ ہو
رہے سینے میں تیرا دردِ پنہاں یا رسول اللہ
سُنہری جالیاں ہوں آپ ہوں اور مجھ سا عاصی ہو
وہیں یہ جاں جدا ہو جانِ جاناں یا رسول اللہ
مجھے ہر یالے گنبد کے تلے قدموں میں موت آئے
سلامت لے کے جاؤں دین و ایماں یا رسول اللہ
نہیں حُسنِ عمل کوئی مرے اعمال نامے میں
تری رحمت مری بخشش کا ساماں یا رسول اللہ
پڑوسی خُلد میں بدکار کو اپنا بنا لیجے
جہاں ہیں اتنے احساں اور احساں یا رسول اللہ
مدینے میں شہا عطار کو دوگز زمیں دے دے
وہیں ہو دفن یہ تیرا ثناخواں یا رسول اللہ