امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
جمیل قادری شاید حبیب حق بلاتے ہیں
جگاتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جس کی دم بھر میں
وہ جس کو چاہتے ہیں اپنے روضے پر بلاتے ہیں
انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرش اعظم کا
تری دیوار کے سایہ میں جو بستر جماتے ہیں
مقدر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آکر
غبارِ فرشِ طیبہ اپنی آنکھوں میں لگاتے ہیں
خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگا
مدینے کو ہزاروں قافلے ہر سال جاتے ہیں