Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Un Ki Mehak Ne Dil Ke Ghunchay Khila Diye Hain

Un Ki Mehak Ne Dil Ke Ghunchay Khila Diye Hain

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
اُن کی مہک نے دِل کے غنچے کھلا دیئے ہیں جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں جب آ گئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہنسا دیئے ہیں اک دِل ہمارا کیا ہے آزار اِس کا کتنا تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جلا دیئے ہیں اُن کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو جب یاد آ گئے ہیں سب غم بھلا دیئے ہیں ہم سے فقیر بھی اب پھیریں گے اُٹھتے ہوں گے اب تو غنی کے دَر پر بستر جما دیئے ہیں اُسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قدسیوں کے ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیئے ہیں آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب کشتی تمہیں پہ چھوڑی لنگر اُٹھا دیئے ہیں دُولہا سے اِتنا کہہ دو پیارے سواری روکو مشکل میں ہیں براتی پُر خار بادئیے ہیں اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا رو رو کے مصطفٰے نے دریا بہا دیئے ہیں میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا دریا بہا دیئے ہیں دُر بے بہا دیئے ہیں مُلکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلّم جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی ذرا لی ہاتھ میں سنگ ریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں بے نواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحویرِ دست رہ گئیں جو پا کے جودِ لایزالی ہاتھ میں کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھا راہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں جودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جویا ہے آپ کیا عجب اُڑ کر جو آ آئے پیالی ہاتھ میں ابرِ نیساں مومنوں کو تیغِ عریاں کفر پر جمع ہیں شانِ جمالی و جلالی ہاتھ میں مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں سایہ افگن سر پہ ہو پرچمِ الٰہی جھوم کر جب لِواءُ الْحَمْد لے اُمت کا والی ہاتھ میں ہر خطِ کف ہے یہاں اے دستِ بیضائے کلیم موجزن دریائے نورِ بے مثالی ہاتھ میں وہ گراں سنگیِ قدِ مَس وہ ارزانیِ جود نوعیہ بدلہ کیے سنگ و لالی ہاتھ میں دستگیرِ ہر دو عالم کر دیا سبطین کو اے میں قرباں جانِ جاں انگشتِ کیالی ہاتھ میں آہ وہ آنکھیں کہ آنکھیں بند اور لب پر دُرود وقفِ سنگِ درِ روضہ کی جالی ہاتھ میں جس نے بیعت کی بہارِ حسن پر قرباں رہا ہیں لکیریں نقشِ تسخیرِ جمالی ہاتھ میں کاش ہو جاؤں لبِ کوثر میں یوں وارفتہ ہوش لے کر اس جانِ کرم کا ذیلِ عالی ہاتھ میں آنکھ محوِ جلوہِ دیدار دل پُر جوشِ وَجد لب پہ شکرِ بخششِ ساقی پیالی ہاتھ میں حشر میں کیا مزے وارفتگی کے لوں رضا لوٹ جاؤں پا کے وہ دامنِ عالی ہاتھ میں