واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا
کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرے میں لاتا نہیں گتّا تیرا
تُو حسینی حسنی کیوں نہ محی الدیں ہو
اے خِضر مَجمَعِ بَحرین ہے چشمہ تیرا
قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے
پیارا اللہ ترا چاہنے والا تیرا
مصطفیٰ کے تنِ بے سایہ کا سایہ دیکھا
جس نے دیکھا مری جاں جلوہِ زیبا تیرا
سیدنا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ کہ مرامی فرمائند: یَا عَبْدَ الْقَادِرِ بِحَقِّی عَلَیْکَ کُلْ وَ بِحَقِّی عَلَیْکَ اِشْرَبْ.. الخ ١٢ منہ
ابنِ زہرا کو مبارک ہو عُرس و قدرت
قادری پائیں تصدق مرے دولہا تیرا
کیوں نہ قاسم ہو کہ تو ابنِ ابی القاسم ہے
کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا
نبوی مینہ علوی فصل بتولی گلشن
حسنی پھول حسینی ہے مہکنا تیرا
نبوی ظل علوی برج بتولی منزل
حسنی چاند حسینی ہے اجالا تیرا
نبوی حُور علوی کوہ بتولی مَعدن
حسنی لعل حسینی ہے تجلّا تیرا
بحر و بر شہر و قریٰ سہل و حُزون دشت و چمن
کون سے چک پہ پہنچتا نہیں دعویٰ تیرا
حُسنِ نیت ہو خطا پھر کبھی کرتا ہی نہیں
آزمایا ہے یگانہ ہے دوگانہ تیرا
حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذرا اوائل عمر اصحاب را می فرمود کہ اولیاءِ عراق مرا تسلیم کردہ اند، بعد از مدتِ فرمود کہ ایں زمان جمیع زمینِ شرق و غرب و بر و بحر و سہل و حُزون مرا تسلیم کردہ اند، و پیچ ولی از اولیاء نہ ماند در آں وقت مگر آں کہ بر شیخ آمد و تسلیم کرد و راہ قطبیت ١٢ تحفہ قادریہ
عرضِ احوال کی پیاسوں میں کہاں تاب مگر
آنکھیں اے ابرِ کرم تکتی ہیں رستا تیرا
موت نزدیک گناہوں کی تہیں میل کے خول
آ برس جا کہ نہا دھولے یہ پیاسا تیرا
آبِ آمد وہ کہے اور میں تیمم برخاست
مشتِ خاک اپنی ہو اور نور کا آلہ تیرا
جاں تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا
تجھ سے در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے ڈور کا ڈورا تیرا
اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹہ تیرا
میری قسمت کی قسم کھائیں سگاںِ بغداد
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
تیری عزت کے نثار اے مرے غیرت والے
آہ صد آہ کہ یوں خوار ہو پروا تیرا
بدسہی، چور سہی، مجرم و ناکارہ سہی
اے وہ کیسا ہی سہی ہے تو کرِیما تیرا
مجھ کو رُسوا بھی اگر کوئی کہے گا تو یوں ہی
کہ وہی نا، وہ رِضا بندہ رُسوا تیرا
ہیں رِضائیوں نہ بلک تو نہیں جَیّد تو نہ ہو
سیّد جَیّد ہر دہر ہے مولیٰ تیرا
فخرِ آقا میں رِضا اور بھی اک نظمِ رفیع
چل لکھا لائیں ثنا خوانوں میں چہر تیرا