یا عَلی المرتضیٰ مولیٰ علی مشکل کشا
آپ ہیں شیرِ خدا مولیٰ علی مشکل کشا
صاحبِ لُطف و عطا مولیٰ علی مشکل کشا
ہیں شہیدِ با وفا مولیٰ علی مشکل کشا
”عِلم کا میں شہر ہوں دروازہ اس کا ہیں عَلی“
ہے یہ قولِ مصطفیٰ مولیٰ علی مشکل کشا
”جس کسی کا میں مولیٰ اُس کے مولیٰ ہیں عَلی“
ہے یہ قولِ مصطفیٰ مولیٰ علی مشکل کشا
پیکرِ خوفِ خدا اے عاشقِ خیرِ الوریٰ
تم سے راضی کبریا مولیٰ علی مشکل کشا
بعد خلفائے ثلاثہ سب صحابہ سے بڑا
آپ کو رتبہ ملا مولیٰ علی مشکلکُشا
قلعہ خیبر کا دروازہ اکھاڑا آپ نے
مرحبا! صد مرحبا! مولیٰ علی مشکلکُشا
پیکر جودو سخا تُو میں فقیر و بے نوا
تو ہے داتا میں گدا مولیٰ علی مشکلکُشا
شبّر و شبیر کے والد ہو تم ماں فاطمہ
سید و سردار ہو مولیٰ علی مشکلکُشا
میں گناہوں کا مریض اور آپ ہیں میرے طبیب
دیجئے مجھ کو شِفا مولیٰ علی مشکلکُشا
جان کو خطرہ ہے میری دشمنوں سے ہر گھڑی
المدد شیرِ خدا مولیٰ علی مشکلکُشا
حیدری کرارؓ لے کے آؤ تیغِ ذُوالفِقار
زورِ دشمن بڑھ چلا مولیٰ علی مشکلکُشا
مغفرت کروائیے جنّت میں لے کے جائیے
واسطہ حَسنین کا مولیٰ علی مشکلکُشا
دل سے دنیا کی محبّت دُور کر کے یا علیؓ!
دیدۂ عشقِ مصطفےٰ مولیٰ علی مشکلکُشا
از پئے غوثُ الوریٰ ہم کو نجفؓ بلواہیے
ہو کرم یا مرتضیٰؓ مولیٰ علی مشکلکُشا
شبّر و شبیر کے بابا مجھے دیدار ہو
خواب میں اب آپ کا مولیٰ علی مشکلکُشا
اشکبار آنکھیں عطا ہوں دل کی سختی دُور ہو
دیجئے خوفِ خدا مولیٰ علی مشکلکُشا
ایک ذرّہ اپنی اُلفت کا عنایت کر مجھے
اپنا دیوانہ بنا مولیٰ علی مشکلکُشا
بھیک لینے کیلئے دربار میں منگتا ترا
لے کے کشکول آ گیا مولیٰ علی مشکلکُشا
کیوں پھروں در در بھلا خیرات لینے کیلئے
میں فقط منگتا ترا مولیٰ علی مشکلکُشا
نفسِ امّارہ ہو مغلوب اور سدا ناکام ہو
وار ہر شیطان کا مولیٰ علی مشکلکُشا
بے سبب بخشش ہو میری یہ دعا فرمائیے
مصطفےٰ کا واسطہ مولیٰ علی مشکلکُشا
کیجئے حق سے دعا ایمان پر ہو خاتمہ
خیر سے عطّار کا مولیٰ علی مشکلکُشا