یا خدا ہر دم نگہ میں اُن کا کاشانہ رہے
دونوں عالم میں خیالِ رُوئے جانانہ رہے
اے عرب کے چاند تیرے ذرّے کا ذرّہ ہوں میں
تا اَبَد پُرنور میرے دل کا کاشانہ رہے
کیوں مُعَطَّر ہو نہ خوشبو سے دو عالم کا دماغ
پنجۂ قدرت ترے گیسو کا جب شانہ رہے
جس مکاں کی اپنے پائے پاک سے عزت بڑھائیں
کیوں نہ سب امراض کا وہ گھر شفاخانہ رہے
زندگی میں بعدِ مُردَن اُن کے نامِ پاک سے
یا خدا آباد میرے دل کا ویرانہ رہے
عینِ ایماں ہے یہی اور ہے ہر اک مومن پہ فرض
اُن کے نامِ پاک کا دُنیا میں مستانہ رہے