زائرِ طیبہ! روضے پہ جا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
میرے غم کا فسانہ سنا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تیری قسمت پہ رشک آ رہا ہے تو مدینے کو اب جا رہا ہے
آہ! جاتا ہے مجھ کو رُلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
جب پہنچ جائے تیرا سفینہ، جب نظر آئے میٹھا مدینہ
با ادب اپنے سر کو جھکا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
جب کہ آئے نظر پیارا آقا، چوم لینا نظر سے تو کعبہ
ہو سکے گر تو ہر جا پہ جا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تو عرب کی حسیں وادیوں کو، ریگزاروں کو آبادیوں کو
میری جانب سے پلکیں بچھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
جب کہ پیشِ نظر جالیاں ہوں، تیری آنکھوں سے آنسو رواں ہوں
میرے غم کی کہانی سنا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
آمنہ کے دُلارے کو پہلے، بعد شیخین کو بھی تو کہہ لے
پھر بقیعِ مبارک پہ جا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
مانگنا مت تُو دنیا کی دولت، مانگنا ان سے بس ان کی الفت
خوب دیوانے دل کو لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
میرے آقا کے محراب و منبر ان کی مسجد کے دیوار اور در
قلب کی آنکھ اُن پر جما کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
پیاری پیاری وہ جنت کی کیاری، چوم لینا نگاہوں سے ساری
بحرِ رحمت میں غوطہ لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
سبز گنبد کے دلکش نظارے، روح پرور وہاں کے منارے
ان کے جلووں میں خود کو گما کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
وہ شہیدوں کے سردار حمزہ، اور جتنے وہاں ہیں صحابہ
تو سبھی کے مزاروں پہ جا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تو نمازوں کا پابند بن جا، اور سرکار کی سنتوں کا
انقلاب اپنے اندر بپا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
سوئے محبوب کی بکریوں کو، مرغیوں، لکڑیوں، لکڑیوں کو
بلکہ تنکے وہاں کے اٹھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
بُلیاں جب مدینے کی دیکھے، خوب ادب سے انہیں پیار کر کے
ہاتھ نرمی سے ان پہ پھیرا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
اُن مدینے میں بادل گھیریں جب، ان سے بیتاب قطرے گریں جب
بارشِ نور میں تُو نہا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
اشکِ اُلفت کی مہکی لڑی سے، رحمتوں کی برستی جھڑی سے
اپنا سینہ مدینہ بنا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
زائرِ طیبہ! میرا فسانہ، خوب رو رو کے اُن کو سنانا
سوزِ الفت سے دل کو جلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
سنگریزوں کو اور پتھروں کو، اونٹ گھوڑوں، مہروں، خچرون کو
اور پرندوں پہ نظریں جما کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
رو رہا ہے ہر اک غم کا مارا، عرض کرتا ہے تجھ سے بیچارا
میری بھی حاضری کی دعا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
باغِ طیبہ کی مہکی فضا کو، ٹھنڈی ٹھنڈی وہاں کی ہوا کو
ہاتھ لہرا کے سر کو جھکا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
چوم لینا مدینے کی گلیاں، پتیاں اور پھولوں کی کلیاں
سب کو آنکھوں سے اپنی لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
جب مدینے کے صحرا سے گزرے، بھولنا مت، ذرا یاد کر کے
خاکِ طیبہ ذرا سی اٹھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تُو مدینے کے کہسار کو بھی، خس کو خاشاک کو خار کو بھی
ذرے ذرے پہ آنکھیں بچھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
اُن کا دیدار ہو گر میسر، ہوش بھی تیرا قائم رہے گر
جوڑ کر ہاتھ، سر کو جھکا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
وہ مدینے کے مدنی نظارے، دلکش و دلکشا پیارے پیارے
ان نظاروں پہ قربان جا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
اُن کا دیکھے جو نقشِ کفِ پا، خوب آنسو وہاں پر بہانا
اور پلکوں سے جھاڑو لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
بے بسوں، غم کے ماروں کو بھائی! بے کسوں، دل فگاروں کو بھائی!
خود بھی رو کر، انہیں بھی رلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
اشکبار آنکھ والوں کو بھائی، اُن کی آہوں کو نالوں کو بھائی!
تُو مزید اُن کے غم میں رلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تُو مدینے کی ہریالیوں کو، اور پھلوں سے لدی ڈالیوں کو
میٹھی میٹھی کھجوریں منگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
وہ مدینے کے پیارے کبوتر، جب نظر آئیں تجھ کو برادر
ان کو تھوڑے سے دانے کھلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تُو درختوں کو اور جھاڑیوں کو، اُن کی گلیوں کی سب گاڑیوں کو
ہاتھ اپنا ادب سے لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
بوتلوں بلکہ تُو ڈھکنوں کو، دال، گندم کے دانوں، چنوں کو
چوم کر آنکھ سے بھی لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
بینگنوں، بھنڈیوں، توریوں کو، گوبھیوں، گاجروں، مولیوں کو
آنکھ سے لوک یوں کو لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
کہنا سیبوں کو اور آڑوؤں کو، اور کیلوں کو زرد آلؤوں کو
اور تربوز سر پہ اٹھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
توقنادیل کو قمقموں کو، تُو سوچ، تار کو، کولروں کو
ٹھنڈا پانی کسی کو پلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
چیونٹیوں، کھونٹیوں، ٹونیوں کو، ہر طرح کی جڑی بوٹیوں کو
بار بار ان پہ نظریں جما کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
چاولوں، روٹیوں، بوٹیوں کو، مرغ، انڈوں اور مچھلیوں کو
سبزیوں کو وہاں کی پکا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تھالیوں کو پیالوں کو بھائی! مرچ کو اور مسالوں کو بھائی!
چائے کی کیتلی کو اٹھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
ٹھنڈے پنکھوں کو اور ہیٹروں کو، بلکہ تاروں اور میٹروں کو
بتیوں کو وہاں کی جلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
جس قدر بھی ہیں پانی کے نلکے، پھل تو پھل بلکہ بیج اور چھلکے
ہاتھ ان کی طرف بھی بڑھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تُو مکانوں کو بھی کھڑکیوں کو، اور دیوار و در، سیڑھیوں کو
ہاں عقیدت سے دل میں بٹھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
رسیوں، قینچیوں اور چھریوں، چادروں، سوئی دھاگوں کو ڈوریوں
سب کو سینے سے اپنے لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
کاش ہوتا میں سگِ سیدِ کا، بن کے دربان پہرا بھی دیتا
رب نے بھیجا ہے انساں بنا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
مسجدِ پاک کے مُصحفوں کو، خوبصورت وہاں کی صفوں کو
خاک آنکھوں میں اپنی لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
جب مدینے سے تُو ہوگا رخصت، غم سے ہوگی عجب تیری حالت
اپنی پلکوں پہ موتی سجا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
عرض کرنا کہ ہے عرض اتنی، حاضری ہو مدینے ہماری
سب کی جانب سے یہ التجا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
عرض کرنا یہ بے چارے بے بس، کہتے تھے سب یہ رو رو کے بیکس
ہم کو قدموں میں مدفن عطا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تُو غلاموں پہ کہنا کرم کر، یانبی دور رنج و الم کر
ان کو اپنی محبت عطا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
کہنا عطار اے شاہِ عالی! ہے فقط تجھ سے تیرا سوالی
تُو سوال اس کا پورا شبا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا