Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Zarrey Zarrey Pe Chhaya Hua Noor Hai, Mere Meethe Madine Ki Kya Baat Hai

Zarrey Zarrey Pe Chhaya Hua Noor Hai, Mere Meethe Madine Ki Kya Baat Hai

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
ذرے ذرے پہ چھایا ہوا نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے نور سے سب فضا اس کی معمور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے نور پھولوں میں ہے نور کلیوں میں ہے، نور بازار میں نور گلیوں میں ہے دشت و کہسار پر نور ہی نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے ہر طرف رحمتوں کی چھائی گھٹا، مہکی مہکی ہے کیا خوب مدنی فضا ذرے ذرے پہ قرباں یہاں طور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے کیا یہاں دشتِ طیبہ کی ہوں خوبیاں، پھول تو پھول کانٹے بھی دلکش یہاں پتے پتے پہ چھایا ہوا نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے کیف و مستی میں ڈوبے ہوئے رات دن، بھینی خوشبو سے مہکے ہوئے رات دن جس کو دیکھو یہاں آکے مسرور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے باغِ طیبہ میں رہتی ہے ہر دم بہار، آکے دیکھو یہاں کا سماں خوشگوار سب فضا اس کی خوشبو سے بھرپور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے غم زدہ جو بھی دربار میں آگیا، شاہ کی وہ نگاہِ کرم پاگیا سارا رنج و الم اس کا کافور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے دیکھو طیبہ کو کیسی فضیلت ملی، قبرِ انور اسی میں بنائی گئی گنبدِ سبز ہر آنکھ کا نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے سبز گنبد کے جلووں پہ قربان جاں، بلکہ قربان ہے حُسن گون و مکاں ہر مینار پہ چھایا ہوا نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے خاکِ طیبہ میں رکھی ہے رب نے شفا، ساری بیماریوں کی ہے اس میں دوا اس کی برکت سے ہر اک مرض دور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے آس مجھ کو تمہارے کرم کی شہا، بھیک دے دو مجھے اپنے غم کی شہا کہہ دو آقا! تری عرض منظور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے پھر کرم اس پہ سرکار کا ہوگیا، بخت بیدار عطار کا ہوگیا روبرو روضہِ پاک کا نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے