ذکرِ حضورِ پاک ہے میرے لیے غذائے روح
قلب کا چین اس سے ہے اسے دوائے روح
ایسا مجھے کرے خدا یادِ حضور میں فنا
ہر رگ و پے میں عشقِ شاہِ میرے رہے بجائے روح
مدحتِ شاہِ دیں کا نور ہر رگ و پے میں ہے ضرور
قبر میں تھی جو تیرگی پھیل گئی ضیائے روح
طیبہ پہ ہے ادھر نظر حوروں کا اشتیاق ادھر
دیکھئے بعدِ انتقال کون سی سمت جائے روح
کرلو قبول یانی عرضِ جمیلِ قادری
جب کہ جدا ہو جسم سے طیبہ میں گھر بنائے روح