Home/Allama Hasan Raza Khan/Ziyarat mein karoon aur woh shafa'at meri farmayen

زیارت میں کروں اور وہ شفاعت میری فرمائیں

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
زیارت میں کروں اور وہ شفاعت میری فرمائیں مجھے ہنگامہِ عیدین یارب دن ہو محشر کا نصیب دوستاں ان کی گلی میں گر سکونت ہو مجھے ہو مغفرت کا سلسلہ ہر تار بستر کا وہ گریہ آستنِ حنانہ کا آنکھوں میں پھرتا ہے حضوری نے بڑھایا تھا جو پایا اوجِ منبر کا ہمیشہ رہروانِ طیبہ کے زیرِ قدم آئے الہی کچھ تو ہو اعزاز میرے کاسہ سر کا سہارا کچھ نہ کچھ رکھتا ہے ہر فردِ بشر اپنا کسی کو نیک کاموں کا حسن کو اپنے یاور کا محشر میں گنہگار کا پلّہ ہوا بھاری پلّہ پہ جو وہ قربِ ترازو نظر آیا یا دیکھنے والا تھا ترا یا ترا نجوا جو ہم کو خدا بین و خدا جو نظر آیا شل ہاتھ سلاطیں کے اُٹھے بہرِ گدائی دروازہ ترا قوّتِ بازو نظر آیا یوسف سے حسیں اور تمنائے نظارہ عالم میں نہ تم سا کوئی خُوش رو نظر آیا فریادِ غریباں سے ہے محشر میں وہ بے چین کوثر پہ تھا یا قربِ ترازو نظر آیا تکلیف اُٹھا کر بھی دعا مانگی عدو کی خوش خُلق نہ ایسا کوئی خُوش خو نظر آیا ظاہر ہیں حسن احمدِ مختار کے معنے کونین پہ سرکار کا قابو نظر آیا ہر بات بد اعمالیوں سے میں نے بگاڑی اور تم نے مری بگڑی کو ہر بار بنایا اُس جلوۂ رنگیں کا تصدق تھا کہ جس نے فردوس کے ہر تختہ کو گلزار بنایا ان کے دُرِ دنداں کا وہ صدقہ تھا کہ جس نے ہر قطرۂ نیساں دُرِ شہوار بنایا اُس روحِ مجسم کے تبرک کے تبرک نے مسیحا جاں بخش تمہیں یوں دمِ گفتار بنایا اُس چہرۂ پُر نور کی وہ بھیک تھی جس نے مہر و مہ و انجم کو پُر انوار بنایا اُن ہاتھوں کا جلوہ تھا یہ اے حضرتِ موسیٰ جس نے یدِ بیضا کو ضیا بار بنایا اُن کے لبِ رنگیں کی نچھاور تھی وہ جس نے پتھر میں حسنِ لعل پُر انوار بنایا