ظلمت دنیا مجھے تنہا سمجھ کر نہ گھیر
ماہِ طیبہ کی تجلی میں نہیں کچھ بھی دیر
یا نبی تیری دہائی آفتوں میں گھر گیا
رُخ بدل دے مشکلوں کا اور بلائیں مجھ سے پھیر
گنبدِ خضرا کو دیکھے ایک عرصہ ہو گیا
کب کھلے گی میری قسمت اب لگے گی کتنی دیر!
نفس و شیطاں پر مجھے غلبہ عطا کر یا خدا
اُس علی کا واسطہ ہوں جو ہے تیرا شیر
آہ ! میزاں پر کھڑا ہوں شافعِ محشر کرم !
نیکیاں پلّے نہیں بس گناہوں کا ہے ڈھیر
نارِ دوزخ میں نہ لے جائے کہیں مالِ حرام
کر لو توبہ چھوڑ دو اے بھائیو! سب ہیر پھیر
سب کو مرنا ہی پڑے گا یاد رکھو بھائیو!
دیر میں جائے گا کوئی، کوئی چلے گا سویر
یا خدا عالم میں اونچا پرچمِ اسلام ہو
دشمنانِ دیں مسلمانوں سے ہوں مغلوب و زیر
عشقِ احمد ہی سے عطار آدمی ہے آدمی
ورنہ یہ مٹی کا پتلا ہے فقط مٹی کا ڈھیر