Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Aah! Shah-e-Bahr-o-Bar! Main Madina Chhor Aaya

Aah! Shah-e-Bahr-o-Bar! Main Madina Chhor Aaya

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
(کاش! میرے بھی یہ جذبات ہوتے، یہ صرف عاشقِ رسول کی مدینے سے جدائی کے جذبات کی ترجمانی ہے) آہ! شاہِ بحر و بر! میں مدینہ چھوڑ آیا کوہِ غم پڑا سر پر، میں مدینہ چھوڑ آیا آہ! مسجدِ نبوی، ہائے گنبدِ خضراء آہ! روضۂ انور، میں مدینہ چھوڑ آیا غم کے چھائے بادل، دل میں مچ گئی ہل چل آہ! اے مرے یاور! میں مدینہ چھوڑ آیا جب چلا تھا طیبہ کو، تھی خوشی مرے دل کو آہ! اب ہے دِلِ مُضطر، میں مدینہ چھوڑ آیا دِل میں بیقراری ہے اور گریہ طاری ہے بہہ رہی ہے چشمِ تر، میں مدینہ چھوڑ آیا چھپ گیا نگاہوں سے، آہ! سب مدینے کا دلکش و حسیں منظر، میں مدینہ چھوڑ آیا قلب پارہ پارہ ہے، ہجرِ شہ نے مارا ہے آہ! میرے چارِگر! میں مدینہ چھوڑ آیا اب غمِ مدینہ سے، چاک چاک سینہ ہے کیوں کہوں نہ رو رو کر، میں مدینہ چھوڑ آیا لطف جو ہے طیبہ میں وہ کہاں وطن میں ہے کیا کروں گا جا کر گھر، میں مدینہ چھوڑ آیا لوٹ کر نہ میں آتا، کاش! جان دے دیتا گر کے خاکِ طیبہ پر، میں مدینہ چھوڑ آیا آہ! دن مدینے کے، جلد جلد گزرے تھے ہائے جلد چھوٹا در، میں مدینہ چھوڑ آیا دن کو بھی سرور آتا، شب کو بھی ضرور آتا کیا فضا تھی کیف آور، میں مدینہ چھوڑ آیا تھا وہاں سماں نوری، رنج و غم سے تھی دُوری آہ! نور کے پیکر! میں مدینہ چھوڑ آیا وقتِ ہجر جب آیا، پھوٹ پھوٹ کر رویا درد ناک تھا منظر، میں مدینہ چھوڑ آیا ہجر کا ہے صدمہ اور سینہ و جگر میرے رکھ کے قلب پر پتھر، میں مدینہ چھوڑ آیا ہجر کے میں صدموں سے، چُور چُور زخموں سے چل رہا تھا رو رو کر، میں مدینہ چھوڑ آیا جب مدینہ چھوٹا تھا کوہِ غم کا ٹوٹا تھا جان و دل لئے مُضطر، میں مدینہ چھوڑ آیا سبز گنبد اور مینار، آہ! چھوٹ گئے سرکار پھر بلائیے سرور، میں مدینہ چھوڑ آیا تھا غمِ مدینہ میں، فرقتِ مدینہ میں دل میرا بہت مُضطر، میں مدینہ چھوڑ آیا میرے حامی و ہمدم! دور ہوں جہاں کے غم دے دو اپنا غم سرور! میں مدینہ چھوڑ آیا دل میں ہے پریشانی، ہو کرم اے سلطانی آؤ خواب میں سرور! میں مدینہ چھوڑ آیا دل کی ہے عجب حالت، صدمہ و غمِ فرقت الفرّاق اے سرور! میں مدینہ چھوڑ آیا چل دیا سفینہ ہے چھٹ گیا مدینہ ہے ہائے! کیا کروں سرور میں مدینہ چھوڑ آیا غم کی ہو گیا تصویر، آہ! ہجر ہے تقدیر چپ ہوا ہوں رو رو کر! میں مدینہ چھوڑ آیا دور ہو گیا سرکار! آہ! غمزدہ عطار جلد آؤں پھر در پر، میں مدینہ چھوڑ آیا