غمِ فرقت دلِ عشاق کو بے حد رُلاتا ہے
تڑپ اُٹھتے ہیں جب اُن کو مدینہ یاد آتا ہے
مجھے اُس کے مقدر پر بڑا ہی رشک آتا ہے
مدینے کی طرف کوئی مسافر جب بھی جاتا ہے
مجھے اُس وقت دیوانے پہ بے حد پیار آتا ہے
غمِ ہجرِ مدینہ میں وہ آنسو بہاتا ہے
یہ بیمارِ مدینہ ہے طبیبو! تم نہ سمجھو گے
تڑپتا ہے اسے جس دم مدینہ یاد آتا ہے
دکھا دو سبز گنبد کی بہاریں یا رسول اللہ
نہ جانے کب مدینے کا بلاوا مجھ کو آتا ہے
مدد سرکار فرماتے ہیں دیوانہ اگر کوئی
تڑپ کر یا رسول اللہ کا نعرہ لگاتا ہے
عطا کر دو، عطا کر دو بقیعِ پاک میں مدفن
مجھے گورِ غریباں وطن سے خوف آتا ہے
نہیں ہے چاند سورج کی مدینے کو کوئی حاجت
وہاں دن رات اُن کا سبز گنبد جگمگاتا ہے
حکومت کی طلب دل میں، نہ خواہش تاجِ شاہی کی
نظر میں عاشقوں کے بَس مدینہ ہی سماتا ہے
سخاوت بھی ترے گھر کی، عنایت بھی ترے گھر کی
ترے در کا سوالی جھولیاں بھر بھر کے لاتا ہے
عبادت ہو تو ایسی ہو، تلاوت ہو تو ایسی ہو
سرِ شبیرؐ نیزے پہ بھی قرآں سناتا ہے
برستی ہے خدا کی اُس پہ رحمت جھوم کر عطارؔ
غمِ محبوبؐ میں جو کوئی دو آنسو بہاتا ہے
مصطفیٰ کا کرم ہو گیا ہے، دل خوشی سے مرا جھومتا ہے
اذنِ پھر حاضری کا ملا ہے، قافلہ سوئے طیبہ چلا ہے
کوچ کا وقت اب آ چکا ہے، قافلہ پھر مدینے چلا ہے
منہ دکھاؤں گا کس طرح ان کو، پاس حُسنِ عمل میرے کیا ہے
میں مدینے کے قابل نہیں ہوں، بس نبی نے کرم کر دیا ہے
بوجھ عصیاں کا سر پر دھرا ہے، بس گناہوں کا ہی سلسلہ ہے
لوٹنے کو بہارِ مدینہ، چومنے کو غبارِ مدینہ
اذن سے تاجدارِ مدینہ، تیرے تیرا گدا چل پڑا ہے
مُلتی تجھ سے ہے اِک کمینہ، مانگتا ہے یہ قفلِ مدینہ
دے کے دید اسے استقامت، پست ہمت یہ کم حوصلہ ہے
سوئے طیبہ سفر کرنے والو، لب پہ قفلِ مدینہ لگالو
آنکھ شرم و حیا سے جھکالو، بس اِسی میں تمھارا بھلا ہے
حاضری کو ملے چند لمحے، بچ گئے کوچ کے آہ! ڈنکے
ہے عجب وصل و فرقت کا سنگم، ہجر کے غم میں دل رو رہا ہے
سیدی مصطفیٰ جانِ رحمت! کیجئے مجھ پہ چشمِ عنایت
دور ہو جائے دل کی قساوت، تجھ کو صدیق کا واسطہ ہے
یا نبی! مجرم آئے ہوئے ہیں، بارِ عصیاں اٹھائے ہوئے ہیں
آس تجھ پہ لگائے ہوئے ہیں، تیری رحمت ہی کا آسرا ہے
میں نے جب بھی عبادت کا سوچا، نفس نے فوراً اُس دم دبوچا
نیکیوں کا نہیں سلسلہ کچھ، بس گناہوں میں ہی دل پھنسا ہے
ہے ہوس مال کی، قلب بھٹکا، ہر نفس ہے ہی بس حُبِ دنیا
اپنی اُلفت کا ساغر پلا دو، یاحبیبِ خدا التجا ہے
حُبِ دنیائے مُردار دل میں، کر چکی گھر ہے سرکار دل میں
تم جو آجاؤ دلدار دل میں، بس ٹلی دل سے پھر یہ بلا ہے
یا نبی! آپ کے عاشقوں کو، آپ کی دید کے طالبوں کو
اپنا جلوہ دکھا دیجئے نا، ان بیچاروں کو ارماں بڑا ہے
عُمر عطار باون برس کی، ہے ہوس تجھ کو دُنیا کی پھر بھی
اب تو جی جی کے کتنا جئے گا، وقتِ رحلت قریب آچکا ہے
قافلہ ”چل مدینہ“ کا آقا، چل پڑا جانبِ طیبہ مولٰی
تیرے عُشاق کے پیچھے پیچھے، تیرا عطار بھی آ رہا ہے
مدینہ